ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / عدلیہ کا 12 ریاستوں سے سوال ،ابھی تک لوک آیکت کیوں نہیں مقرر کیاگیا

عدلیہ کا 12 ریاستوں سے سوال ،ابھی تک لوک آیکت کیوں نہیں مقرر کیاگیا

Sat, 24 Mar 2018 11:20:11    S.O. News Service

نئی دہلی23 مارچ(ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا ) سپریم کورٹ نے جمعہ کو 12 ریاستوں کے چیف سکریٹریوں سے کہا کہ وہ لوک آیکت کے مقرر نہ ہونے کے وجوہات اس بے کرائیں۔ جسٹس رنجن گوگوئی اور جسٹس آر بھانومتی کے بنچ نے اڑیسہ کے چیف سکریٹری سے یہ بھی کہا کہ وہ ریاست میں لوک آیکت کی صورتحال کے متعلق عد لیہ کو آگاہ کرائے۔ بنچ نے کہا کہ ریاست میں لوک آیکت ہے یا نہیں، اس کے متعلق عدالت عظمیٰ کے پاس کوئی اطلاع نہیں ہے ۔جن 12 ریاستوں میں لوک آیکت کی تقرری نہیں کئے جانے کی وجہ سے سوال کیاگیا ہے وہ جموں کشمیر، منی پور، میگھالیہ، میزورم، ناگالینڈ، پنڈوچیری، تمل ناڈو، تلنگانہ، تریپورہ، اروناچل پردیش، دہلی اور مغربی بنگال۔ سپریم کورٹ نے 12 ریاستوں سے یہ بھی کہا کہ لوک آیکت کی تقرری کب ہوگی، اس بارے میں بھی اسے آگاہ کرائیں۔ لوک پال اور لوک آیکت ایکٹ کی دفعہ 63 کے مطابق ہر ریاست ایک ادارے قائم کرے گی، جسے لوک آیکت کے نام سے جانا جائے گا۔سپریم کورٹ اس مفاد عامہ کی عرضی پر سماعت کر رہا تھا، جس میں لوک آیکت کے مؤثر کام کاج کے لئے کافی بجٹ مختص اور بنیادی ڈھانچہ فراہم کرنے کے سلسلے میں ریاستوں کو ہدایات دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ وکیل اور دہلی بی جے پی کے لیڈر اشونی کمار اپادھیائے کی جانب سے دائر پٹیشن کے مطابق لوک پال اور لوک آیکت ایکٹ، 2013 کو ایک جنوری، 2014 کو صدر جمہوریہ کی منظوری مل گئی تھی، لیکن ایگزیکٹو نے اب تک لوک پال کا قیام نہیں کیا ہے۔ درخواست گزار کے مطابق کئی ریاستی حکومتیں ضروری بنیادی ڈھانچہ، کافی بجٹ اور افرادی قوت دستیاب نہیں کرکے لوک آیکت کو عمداً کمزور کرنا چاہتی ہے ۔


Share: